| |
 |
|
| |
 |
|
| |
 |
|
| |
 |
|
| |
 |
|
| |
 |
|
| |
 |
|
| |
 |
|
| |
 |
|
| |
 |
|
| |
|
|
|
Popular Features |
| |
|
Complete Website in PKR 2500 |
|
Al-Turka Web Developers offers lowest web
designing rates in Pakistan complete
website (.com, .org, .net)+5 html pages,
feedback form, snaps gallery and many more
just in PKR 2500/=
Click Here |
| |
|
|
| |
|
How To Save Pakistan Cricket |
|
Pakistan Cricket going down day by day. Send us
suggestion to save Pakistan Cricket.
Click Here |
| |
|
|
| |
|
Awan Contacts Directory |
|
Soonvalley.com offers Contact
directory of Awans, In this
directory contacts & postal
address.
Click Here |
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
Articles |
|
 |
|
|
ادارتی صفحہ
سون ویلی ڈاٹ کام نے آپ کے خطوط اس ویب سائیٹ پر دینے کا اہتمام کیا ہے جس
میں آپ معلومات ، مسائل ، سوالات ، رابطہ نمبر اور پتہ وغیرہ ارسال کر سکتے
ہیں ہم اپنے تئیں کوشش کریں گے کہ آپ کی توقعات پر پورا اتر سکیں ۔
سون ویلی ڈاٹ کام آپ کی اپنی سائیٹ ہے اس کو بہتر بنانے کے لئے ہمیں
پیغامات اور معلومات فراہم کریں اوراگر آپ کے پاس قوم اعوان کے بارے میں
معلوماتی کتاب جو بے شک نہ چھپی ہو قلمی نسخہ بھی بھجوا دیں ہم سائیٹ پر
لگائیں گے۔
دعا گو الترکا پاکستان |
| |
| Send us your kind opinion
and suggestions we paste and update and paste on this site. |
|
|
| |
|
|
| |
|
News & Events |
| |
|
Wadi-e-Soon
K
Azeem
Loag |
|
Shah Dil
Awan,s new book on biography of Legends
from Soon Valley Coming Soon send us
information Download Performa
Click here |
| |
|
|
| |
|
Visit Soon Valley Now |
|
After a rain
Soon Valley look like heaven, every where
look greenery, lakes are full of water and
weather is charming. |
| |
|
|
| |
|
Need to make roads on priority. |
|
Condition of
the roads in Soon Valley is very bad all
roads need highly attention immediately.
|
| |
|
|
|
|
|
|
| |
|
| |
|
| |
|
| |
|
| |
|
| |
|
| |
|
|
|
|
|
محترم و مکرم جناب شوکت محمود اعوان صاحب
السلام علیکم!
امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے ۔ کچھ دن پہلے آپ کو ضلع میانوالی
سے شجرہ موصول ہوا ۔ بعد میں آپ سے ٹیلیفونک گفتگو بھی ہوئی تھی۔
آپ کا خلوص اور شوق دیکھ کر انتہائی خوشی ہوئی۔
جناب عالیٰ ! میں آپ سے رابطے اور تنظیم کے متعلق تمام پراجیکٹس
اپنے چیئرمین صاحب کے گوش گذار کئے تو انہوں نے مجھے کہا کہ میں آپ
کو تمام حالات سے مکمل طور پر مطلع کر دوں تاکہ سب حالات و واقعات
سے آگاہ ہونے کے بعد آپ ہمارے ساتھ رابطہ کا فیصلہ کریں۔ تو حکم کی
تعمیل میں تمام حالات مختصرا سپرد قلم کر رہا ہوں۔
جناب عالیٰ ! ملک محرم خان کا پوتا اور ملک اللہ یار خان کا لخت
جگر ملک احمد یار خان تھوہا محرم خان میں ہنسی خوشی کی زندگی گزار
رہا تھا کہ اسے بوجہ خاندانی جھگڑا (شاید قتل) جو کہ انتہائی شدید
نوعیت کا تھا ، تھوہا محرم خان کی گلیوں کو خیر باد کہہ کر ضلع
بھکر (اس وقت ضلع بنوں پھر ضلع میانوالی) کے قصبے نواں جنڈانوالہ
کو پناہ گاہ بنانا پڑتا ہے۔
احمد یار خان اپنے ماضی سے رشتہ استوار نہیں رکھ پائے گا اس لئے کہ
وہ ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر نئی زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ لہذا اس
نے اپنی تمام شناختیں مٹا ڈالیں اور ایک کمہار کے ہاں سوہارا کمہار
کا نام اختیار کرکے مٹی سے کھیلنے لگا۔ یوں تھوہا محرم خان کا ملک
احمد یار خان ضلع بھکر میں سوہارا کمہار بن کر زندگی گزارنے لگا۔
اس کی شادی بھی غالباََ اسی فیملی میں ہوئی۔ سوہارا کو اللہ تعالی
ٰ نے تین بیٹوں سے نوازا، جن کے نام خمیسہ، محمود اور زمان رکھے
گئے۔ خمیسہ کا صرف ایک ہی بیٹا تھا جو کہ اپنی حالت میں مست رہتا
تھا بعض لوگ اسے محمد عرف گڈا فقیر بھی کہتے تھے اور معتقد بھی تھے
جب کہ محمود کی صرف ایک ہی بھاگو نامی لڑکی تھی وہ اولاد نرینہ سے
محروم تھا۔
زمان کی شادی بالاشریف (موجودہ بالا تحصیل پہلال) میں حامد نامی
شخص کے ہاں ہوئی جس کی بیٹی کے علاوہ صرف ایک جوایا نامی لڑکاتھا۔
احمد یار خان سوہارا بن کر شاید یاد ماضی سے کتنا گریزاں رہا ہو
لیکن اس کی بتائی ہوئی کہانیاں، تلخیاں ، خوشیاں ، یادیں اس کی
اولاد شاید نہ بھلا سکی،کیونکہ ماضی سے رشتہ توڑنااتناّ آسان کہاں
ہوتا ہے۔
یاد ماضی عذاب ہے یارو چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
اسی لئے تو زمان کے پوتے کا نام زمان کے والد احمد یار کے نام پر
ہے اور غلام خواجہ کے پوتے کانام غلام خواجہ کے چچا پر ہے ۔ یہ تو
صرف مثالیں ہیں ورنہ ناموں کا تسلسل ہے۔ یوں لگتا ہے کہ اپنے
پیاروں کی یادوں کو قائم رکھنے کے لئے سوہارا کی اولاد نے اپنی
اولادوں کے نامّ آباؤ اجداد والے رکھنا شروع کر دیے ، یہی وجہ ہے
کہ اڑھائی سو سا ل بعد بھی خمیسہ ، اللہ یار، محمدیار، احمد یار ،
میاں اختیار، محمد سلطان، محمد زمان، احمد وغیرہ اب بھی زندہ ہیں۔
محمد زمان نوان جنڈانوالہ سے نکل کر میانوالی کے نواح یکہ میں آباد
ہوا۔ تو ننھیال ہی اسکی پہچان تھی۔ لوگ اس نئے مکین کو سوہارا کا
بیٹا تو کہتے تھے لیکن ملک اللہ یار خان کاوارث ماننے کو تیار نہ
تھے اور زمان بھی تھوہا محرم خان سے رشتہ نہ جوڑ سکا شاید زخم ابھی
مندمل نہ ہوئے تھے۔
ساتھ ہی نئے باسی ، غریب الدیار کو اپنی حالت سدھارنے اور پاؤں پر
کھڑا ہونے کے لئے ابھی تک تگ و دو کرناتھی ۔ اللہ تعالیٰ نے زمان
کو آٹھ بیٹے اور ایک بیٹی عطا کی۔ جن میں سے سب سے بڑا سلطان، غلام
محمد ( چھدرو میں شادی کی تھی)اللہ یار اور پیارا کوئی وارث چھوڑے
بغیر فوت ہو گئے جب کہ غلام خواجہ ، سلطان احمد اوراحمد دین اور
میاں اختیار زندہ بچے۔ ان چاروں پر وقت کی مصلحتوں ، مجبوریوں کا
بوجھ تھا اور ایک سو آٹھ سال کی عمر میں ملک اللہ یار خان کا پوتا
محمد زمان اعوان کی بجائے سوہارا کمہار کا بیٹا زمان کمہار بن کر
منوں مٹی تلے سو گیا۔
زمان کے چاروں بیٹوں نے ضلع میانوالی ہی کو مسکن بنائے رکھا لیکن
اپنے اوپر لگے لیبل کو مکمل طور پر مٹا نہ سکے۔ ہاں صرف خواجہ غلام
کی اولاد میں سے چونکہ گھبیرا سے چوبیس میٹر دور میانوالی شھر میں
آّباد ہوئے، اپنے ماضی سے رشتہ جوڑنے میں کسی حد تک کامیاب ہوئے یا
میاں احمد دین کی اولاد میں سے فتح پور ضلع لیہ میں مقیم ہونے والے
افراد اپنی پہچان محرم خان کی نسبت سے کروانے میں کامیاب رہے۔
یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتاہے کہ کیا پیشہ اور خاندان ایک ہی چیز
ہے؟ کوئی پیشہ اپنانے سے آپ کا خاندان بھی بدل جاتا ہے؟ کیازمان
اور اس کی اولاد کمہاروں کا کام کرتی تھی۔ ظاہر ہے کہ اثرات تو
مرتب ضرور ہوں گے کیونکہ مایوسیوں کے دور میں صرف اسی ہنر اور کام
کی بدولت وہ زندگی کی دوڑ میں شامل ہوئے۔لیکن یہ پیشہ ورانہ
وابستگی زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکی لیکن معاشرے نے اس لیبل کو
بالکل اترنے بھی نہ دیا۔ اب صرف چند لوگ (تقریبا پانچ افراد ) ایسے
ہیں جو مٹی کے برتن خرید کر ان کی تجارت کرتے ہیں کوئی ماہر نہیں ۔
صرف سوہارا اس کے بیٹے اور پوتے (کچھ حد تک) اس کام سے وابستہ رہے۔
مثال کے طورپر زمان کے بیٹے احمد دین کو دیکھئے جو حافظ تھے اور
مدرس بھی تھے لیکن کسی حد تک اس فن سے بھی واقف تھے (ننھیال کا فن)
اس کے بیٹے محمد حسین درزی تھے جب کہ حاجی محمد رمضان متوسط زمین
دار اور تجارت کے پیشہ سے منسلک ہوئے۔ محمد حسین کے بیٹوں میں سے
محمد حنیف ریٹائڑد ہیڈ ماسٹر ہیں اور اس کے بیٹوں میں سے بڑارشید
الیکٹریشن، منجھلا سعید پی اے ایف ، تیسرا سجاد دکاندار ہے محمد
حسین کا دوسرا بیٹا آرمی میں جب کہ تیسرا مشاق احمد پی اے ایف میں
سروس کرتا ہے۔
اسی طرح اب ان میں کوئی بھی خاندان کافرد ایسا نہیں ہے جس نے
ننھالی پیشہ اختیار کر رکھا ہو۔ جناب شوکت محمود اعوان صاحب ! یہ
ہیں وہ حالات و واقعات جن کا ہم نے مفصل تذکرہ کردیاہے۔ ہم اپنی
اصلیت تک پہنچنا چاہتے ہیں اور اس لیبل کو دھونے کے لئے ہم عرصہ
دراز سے لڑ رہے ہیں۔ پے در پئے ہجرتوں کی وجہ سے ہمارے آباء اپنا
ماضی سے رشتہ برقرار نہ رکھ سکے ۔ان نئے جذبوں نے مل کر تنظیم
بنائی ہے جہاں حقائق اکٹھے کئے جا رہے ہیں اور امید ہے کہ دلیرانہ
فیصلے ہوں گے لیکن ظاہر ہے کہ ہنوز دلی دور است۔
اسی لئے آپ کو لکھا تھا کہ آپ تحقیق کریں ۔ہم چاہتے ہیں کہ آپ
آزادانہ تحقیق کریں اور پھر مکمل بھروسے سے ہمیں کنٹکٹ کریں ۔ بحر
حال چیئرمین صاحب کی خواہش کے مطابق حالات مختصراََ لکھ دیئے ہیں۔
اس صورت حال میں ساتھ چلنے یا نہ چلنے کا فیصلہ آپ کا اپنا ہے؟ اب
اور صرف شجرہ کے وقت کی رائے میں کتنافرق ہے ؟ مجھے ضروری بتایئے
گا کیونکہ ہمارا معاملہ اتنا نارمل بھی نہیں ہے لہذا اب آپ اگلے
اقدام سے ہمیں مطلع فرمائیں گے جو ہم یقیناًمنظورکریں گے۔ کیونکہ
اپنے ماضی سے الحاق کی جنگ ہم جاری رکھنا چاہیں گے۔ پھر صورت میں
بھرپور تعاون کایقین رکھیئے گا۔
خدا ہر شخص کا حامی و ناصر ہو
والسلام
ممتاز احمد ملک
جنرل سیکرٹری محرم خیل برادری ضلع میانوالی
فون نمبر 03226068408 |
|
| |
|
|
SoonValley.com
is your own site, Send us your suggestions to improve this Awans
community....Email us
awans@live.com
|
|
|