Tell a Friend
   
   
   
   
   
   
   
   
   
   
   
 
 
 
 
 
Popular Features
 

Complete Website in PKR 2500

Al-Turka Web Developers offers lowest web designing rates in Pakistan complete website (.com, .org, .net)+5 html pages, feedback form, snaps gallery and many more just in PKR 2500/=
Click Here

 
 
 

How To Save Pakistan Cricket

Pakistan Cricket going down day by day. Send us suggestion to save Pakistan Cricket. 
Click Here

 
 
 

How To Create Alert Pay Account

Earn money on net & Create alert pay Account, Here complete detail available,  for register
Click Here

 
Awan Contacts Directory

Soonvalley.com offers Contact directory of Awans, In this directory contacts & postal address.
Click Here

 

 

 

   

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

"Soon Valley Pakistan"

 
 
 
     
 
News & Events
 
Wadi-e-Soon K Azeem Loag
Shah Dil Awan,s new book on biography of Legends from Soon Valley Coming Soon send us information Download Performa Click here
 
 
 
Visit Soon Valley Now
After a rain Soon Valley look like heaven, every where look greenery, lakes are full of water and weather is charming.
 
 
 
Need to make roads on priority.
Condition of the roads in Soon Valley is very bad all roads need highly attention immediately.
 
 
 
   
   
   
   
   
   
  Soon Valley Development Program  

  


جھیل کھبیکی:
یہ جھیل کھبیکی کے مغرب میں واقع ہے جھیل کا رقبہ تقریباً چھ سو ایکڑہے، جھیل کا محل وقوع انتہائی دلفریب ہے ایک جانب گاؤں دوسری جانب زرخیزہرے بھرے کھیت ہیں۔ دو اطراف میں سر سبز پہاڑ ہیں۔اس جھیل کا پانی ماہی پروری کے لئے موزوں ہے پچھلے کچھ عرصہ سے پانی کافی کم ہوا البتہ بارشوں سے صورت حال قدرے بہتر ہوئی۔ یہاں فشری فارم ہے۔اس جھیل میں مرغابیوں کی بہتات ہے ان کے علاوہ خوبصورت آبی حیات اس کے حسن کو دو بالا کرتی ہے۔یہ وادی کی دوسری بڑی جھیل ہے اور دنیا بھر کی خوبصورت جھیلوں میں شامل ہونے کے باعث یہاں فلموں اور ڈراموں کو فلمایا گیا ہے۔ سائیبریا اور دوسرے سمندروں سے مہاجر پرندے یہاں آتے ہیں۔

جھیل اوچھالی:
اوچھالی اور انگہ کے وسط میں کھاری پانی پر مشتمل وسیع و عریض جھیل ہے جو تقریباًساڑھے گیارہ سو ایکڑ ایریا پر مشتمل ہے جو برسات کے موسم میں بڑھ کر تیرہ سو ایکڑتک جا پہنچتی ہے۔یہ پانی آبپاشی کے قابل نہیں البتہ ارد گرد کا رقبہ انتہائی ذرخیز اور پانی میٹھا ہے۔جھیل کے کنارے چٹہ گاؤں سے جھیل کا نظارہ نہایت دلکش ہے یہاں مرغابیوں کے علاوہ کافی جنگلی حیات موجود ہے جس کی وجہ سے دلکشی میں اضافہ ہوتا ہے۔
ایک روایت ہے کہ کئی سو سال پہلے اس جھیل کا پانی سرخ ہو گیا تھا اور آہستہ آہستہ معمول پر آ گیا۔محکمہ ارضیات اور معدنیات کے مطابق ان پہاڑوں کے نیچے گندھک کی کثیر مقدار ہو سکتی ہے جبکہ آتش فشاں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا البتہ اس جھیل کی بدولت ایسی صورتحال فی الحال ایسا کچھ نظر نہیں آتا۔

جھیل جاہلر:
گاؤں میں داخل ہوتے ہی جو چیز سب سے زیادہ پر کشش لگتی ہے وہ یہاں کی جھیل ہے جوشہر سے دو کلو میٹر کی مسافت پر واقع ہے۔سرورق کی تصویر سمیت ہم نے کوشش کی ہے جھیل اور وادی کی حقیقی منظر کشی کی جا سکے۔یہاں جھیل کو دیکھنے کے بعد ایک سحر طاری ہونا ایک فطری سی بات ہے۔میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ نے ایک کشش جھیل سیف الملوک میں دیکھی ہوگی۔ سدپارہ، شنگریلہ، کرومبر کی دلکشی اپنی جگہ لیکن اس قدرے خشک علاقے میں اس قسم کی جھیل بہ نفسِ نفیس دیکھنے کا تقاضا کرتی ہے۔یہ درمیانے قطر کی جھیل اوچھالی اور کھبیکی سے قدرے مختلف ہے۔ نقل مکانی کر کے آنے والی مرغابیاں اور دوسرے آبی پرندے جھیل کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔

 

حیات المیرؒ 
آپؒ حضرت جمال اﷲ المعروف پیر حیات المیرؒ زندہ پیر حضرت شیخ عبدلقادر جیلانی ؒ کے پوتے تھے آپ کے والد محترم کا نام سید تاج الدین عبدالرزاق ؒ تھا۔ روایت ہے کہ آپ نے حضرت غوث اعظم ؒ کی دعا سے حیات جاویدپائی۔ حضرت شیخ عبدلقادر جیلانی ؒ نے اپنے پوتے کو پیغام دیا تھا کہ امام مہدی ؑ کو سلام عرض کرنا۔یہاں آپ کا مزار نہیں بلکہ نشست گاہ ہے جہاں پر آجکل خوبصورت کمرہ اور عالی شان مسجد تعمیر کی گئی ہے۔

مائی والی ڈھیری:
مردوال سے شمال کی جانب کو ئی تین کلو میٹر کی مسافت پر وادی کی دوسری بلند چوٹی ’’مائی والی ڈھیری َ ََِ‘‘ موجود ہے جو اپنی دلکش گولائی کی بنا پر وادی میں دوردور تک عجب نظارہ پیش کرتی ہے۔ڈھیری پر چڑھنے کا رستہ آسان بنا دیا گیا ہے چوٹی پر ایک خوبصورت دربار ہے جو ایک مقامی نیک دل عورت نے جذبہ عقیدت سے تعمیر کرایا۔دربار میں کتبہ پر کندہ تحریر میں نام 
’’پیروز بی بی ؒ زوجہ سید احمد ہمدانی المعروف سخی شاہ نوری سلطان بلاول ہمدانی دندہ شاہ بلاول چکوال‘‘ ہے۔
اس مائی کے متعلق کئی روایات ہیں مستند روایت ہے کہ مائی یہاں سے گزری تھیں اور بعد از وفات یہاں دفن کی خواہش کا اظہار کیا کیونکہ وہ چاہتی تھیں انہیں ایسی جگہ دفن کیا جائے جہاں سے اسے وطن کی چاروں طرف سے ہوا لگے۔پسماندگان نے آپ کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے یہاں دفن کیا۔
اس جگہ کھڑے ہو کر دور دور تک نہ صرف وادی بلکہ خوشاب، میانوالی، ونہار وغیرہ کا نظارہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
بھاٹا غار:
یوں تو وادی میں لا تعداد قدیم غاریں ہیں البتہ بھاٹا غار نہ صرف سیاحوں کی نظروں سے اوجھل تھی حتکہ محکمہ آثار قدیمہ بھی یہاں تک رسائی حاصل نہ کر سکاتھا چونکہ ہم نے وادی کے پوشیدہ نظاروں کو منظر عام پر لانے کا عہد کیا اور اﷲ تعالیٰ نے ہماری مدد کی ملک محمد نواز بڈھیال کے ہمراہ ڈیلے والی سے بھاٹا غار پہنچے ۔ یہ مردوال سے بھلوٹھی روڈ کے نزدیک ہے اور مائی والی ڈھیری سے کوئی پندرہ منٹ کی مسافت پر واقع ہے ۔اس غار کی لمبائی لگ بھگ پچاس گز ہو گی چوڑائی بارہ گز سے زائد ہو گی غار کے دو منہ ہیں جھاڑیوں نے دونوں طرف سے ڈھانپ رکھا ہے اندر جنگلی کبوتروں نے رہائش اختیار کر لی ہے ۔


نرسنگھ پھوار:
یہ ڈھوک چامل کے نزدیک ایک چشمہ ہے جہاں ایک خوبصورت باغ اور پرندے ہیں۔ ملک بابر اعوان نے یہاں مختلف نسلوں کے پرندے پال رکھے ہیں، نزدیک ایک مندر ہے جو ہندوں کا نہایت مقدس مندر ہے۔اس چشمے کا پانی نیچے جا کر پھوار کی صورت گرتا ہے۔شام کے وقت یہاں بیٹھ کے دو پل خاموشی اور نیچے آبشاروں سے ایک مسحور کن احساس پیدا ہوتا ہے۔جی چاہتا ہے کہ یہ لمحات یہیں رک جائیں۔یہاں پر نزدیک ایک ایسی پگڈنڈی ہے جسے اراڑہ سے آنے والے لوگ استعمال کرتے ہیں اسے پل صراط کہتے ہیں دراصل یہ اتنی تنگ پگڈنڈی ہے کہ ذرہ سی لاپرواہی پر آپ نیچے ہزاروں فٹ گہرائی کی نظر ہوسکتے ہیں۔
وادی کی سیر نرسنگھ پھوار دیکھے بغیر نامکمل ہے۔یہاں آنے کے لئے جابہ کے علاوہ سوڈھی جے والی سے بھی رستہ آتاہے۔اس علاقے میں خطر ناک جنگلی جانوروں کی بہتات ہے جن میں چیتا وغیرہ بھی پائے جاتے ہیں اس لئے اندھیرا چھانے سے پہلے یہاں سے نکلنا بہتر ہوگا کیونکہ رات کا سفر خطرے سے خالی نہیں۔

 
 
 
     
 

قلعہ امب شریف
امب شریف سے جنوب کی جانب کوئی دو کلو میٹر کی مسافت پر تاریخی قلعے کے آثار ملتے ہیں یہاں تک پختہ سڑک موجود ہے۔ڈھوڈا نالہ کے قریب دو عمارتیں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ بڑی بڑی دیواریں جو کبھی قلعہ کے حصار تھے۔ ایک بلند عمارت جس کے بارے میں روایت ہے کہ سات منزلوں پر مشتمل یہ مندر تھا اب تین منزلیں باقی ہیں اوپر والی منہدم ہو چکی ہیں ۔اگر محکمہ آثار قدیمہ یہاں بروقت حفاظتی اقدام نہ کرتا تو یہ بھی زمانے کی دست وبرد کا شکار ہوجاتے۔ یہاں ہی قریب ایک اور مندر موجود ہے جس کی عمارت قدرے چھوٹی ہے لیکن طرز تعمیر، سامان عمارت سب کچھ ایک ہی ہے دونوں میں کھنگروں والے بلاک استعمال کئے گئے ہیں عمارت تزئین و آرائش سے اندازہ ہوتا کہ کشمیری انداز کی طرز تعمیر ہے۔یہاں سے کئی ایک مجسمے ملے ہیں جو لاہور عجائب گھر میں محفوظ ہیں ان کے علاوہ ۱۸۸۶ء میں ساڑھے پانچ سو کے قریب گیارھویں صدی عیسوی کے سکے ملے ہیں۔
اس قلعہ کے نیچے چشمہ بہتا ہے۔یہاں سے علاقے کا خوبصورت منظر،پر اسرار خاموشی آج بھی سیاحوں کا دل موہ لیتی ہے ۔یہاں پر احساس تنہائی شاعروں کے لئے جنت سے کم نہیں۔ یہ ایک وسیع علاقہ ہے جہاں کبھی خوبصورت آبادی رہی ہے۔
اس قلعہ کے متعلق ایک کتبہ کا حوالہ موجود ہے جس کے مطابق یہ راجہ امبریک نے تعمیر کرایا۔راجہ سیفل اور اس کی محبوبہ کے حوالے سے بھی کئی ایک داستانیں مشہور ہیں جن کے مطابق دونوں کی خوابگاہیں آمنے سامنے تھیں اور وہ ایک دوسر ے کا دیدار کرتے تھے۔تاریخی اعتبار سے یہ قلعہ وادی کا قیمتی اثاثہ ہے۔


کنہٹی گارڈن
کھبیکی سے نو ۹ کلو میٹر شمال پہاڑوں کے دامن میں خوبصورت باغ ہے۔ یہ وادی میں واحد آباد باغ ہے۔یہ باغ ۷۵ ،ایکڑرقبے پر مشتمل ہے جسے چشمہ رکھ کھبیکی سے سیراب کیا جاتا ہے پانی کی کمی کے باعث یہاں محکمہ زراعت نے ٹیوب ویل بھی لگوایا ہے یہ باغ انگریز میجر واٹ نے ۱۹۲۷ ؁ء میں لگوایا۔
یہاں مختلف قسم کے پھل دار پودے پھول اور اعلیٰ نسل کے درخت ہیں ان میں گرمئی مالٹے ،گرے فروٹ، خوبانی، آلوبخارہ، امرود، بادام ، سیب، انگور، لوکاٹ، انار وغیرہ لگائے گئے ہیں۔چشمہ پر پُراسرار چکیاں بھی ہیں جنہیں مقامی زبان میں جند کہتے ہیں۔ چشمہ کوئی ایک میل سے زائد پہاڑی کے دامن سے نکلتا ہے۔چشمہ کے پانی میں آجکل کمی ہوئی ہے تاہم وادی پکھڑ میں گرنے سے پہلے پن چکیوں کے قریب پانی خوبصورت آبشار بنا کر وادی سون کو الوداع کہتا ہے۔

 
 
 
   

More Updates available soon InshAllah

 
  SoonValley.com is your own site, Send us your suggestions to improve this Awans community....Email us awans@live.com
   

All Rights Reserved By Al-Turka Pakistan © 2010